Tariq Iqbal Haavi
Member
- Joined
- Nov 3, 2020
- Messages
- 103
یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم
مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے
کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
کچی راہوں میں چلتے تھے، پھسلتے تھے، سنبھلتے تھے
کتنا خود کو تھکاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بوندیں چہروں پہ مَلتے تھے، کیسے کیسے بہلتے تھے
حدوں کو بھول جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
عمر جو سنگ گزاری تھی، وہی بس خوشگواری تھی
رنگیںہر پَل بناتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
ہجر کا روگ ہے اب تو، یہ موسم سوگ ہے اب تو
کبھی ہنستے ہنساتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
(طارق اقبال حاوی)
مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم
مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے
کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
کچی راہوں میں چلتے تھے، پھسلتے تھے، سنبھلتے تھے
کتنا خود کو تھکاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بوندیں چہروں پہ مَلتے تھے، کیسے کیسے بہلتے تھے
حدوں کو بھول جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
عمر جو سنگ گزاری تھی، وہی بس خوشگواری تھی
رنگیںہر پَل بناتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
ہجر کا روگ ہے اب تو، یہ موسم سوگ ہے اب تو
کبھی ہنستے ہنساتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
(طارق اقبال حاوی)