یہ رُت مِل کے بیتاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
مِلن کے گیت گاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بہانے سو بنا کے ہم، سبھی سے چُھپ چُھپا کے ہم
مِلنے آ ہی جاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*
بہت اُودھم مچاتے تھے، اِسقدر بھیگ جاتے تھے
کہ گھنٹوں کپکپاتے تھے، بھیگے موسم میں، میں اور تم
*...
تمھیں ہم کیسے سمجھائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں
کیسے ہم دل کو بہلائیں، تمھارے بن ادھورے ہیں
گزارش یہ ذرا سی ہے، تمھارے بن اُداسی ہے
کہو تو ملنے آجائیں، ، تمھارے بن ادھورے ہیں
(شاعر: طارق اقبال حاوی)
This site uses cookies to help personalise content, tailor your experience and to keep you logged in if you register.
By continuing to use this site, you are consenting to our use of cookies.